قرآن، سورہ المسد، 111 کے متعلق پیش لفظ
سورۃ المسد [111]
مروجہ روایتی ترجمہ : ""ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو۔نہ تو اس کا مال اس کے کچھ کام آیا، نہ ہی وہ جو اُس نے کمایا۔ وہ جلد بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا۔ اور اُس کی جورو بھی جو ایندھن سر پر اُٹھائے پھرتی ہے۔اُس کے گلے میں مونج کی رسّی ہوگی۔ ""[جالندہری]
اس سورت کے بارے میں ہمیں ہمیشہ سےیہ تعلیم دی گئی تھی کہ قرآن یہاں حضور پاک کے دشمن ابو لہب اور اس کی بیوی کا ذکر کرتا ہے۔بعد ازاں تمام دستیاب تفاسیر و تراجم کو دیکھنے کا موقع ملا تو ہر جگہ یہی ذکر سامنے آیا۔ علامہ اسد اور یوسف علی کے تراجم میں البتہ یہ استثناء دیکھنے میں آئی کہ ابی لہب سے نام مراد لینے کی بجائے اس کا لفظی ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ البتہ لفظ "امراتہ" کی تعبیر ان دونوں تراجم میں بھی"اُس کی بیوی" کے الفاظ میں ہی کی گئی جس سے ترجمہ مزید غیر واضح ہو گیا ، کیونکہ یہ ایک معمہ بن گیا کہ جب ابو لہب نامی کسی شخص کا ذکر نہیں ہے تو پھر آخر "امراتہ"کس کی بیوی کا ذکرِ خیر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ سوال ذہن میں موجود رہا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ناموں کے علاوہ شاید ہی کسی شخصیت کا اس کا ذاتی نام لے کر ذکر کیا ہو۔تو پھر یہ نام کیوں؟ اور پھر کسی کی بیوی کا ذکر، وہ بھی مذمت کے ساتھ؟ کیونکہ قرآن عورت ذات کو ایک قابلِ صد احترام مقام عطا کرتا ہے اس لیے یہ بات شائستگی اور آداب کے منافی معلوم ہوتی ہے۔ یہ قرآن کی شان نہیں ہے۔ اور دیکھا جائے تو یہ بات حلق سے نیچے ہی نہیں اُترتی تھی کہ کسی بھی جنگی محاذ آرائی یا دو نظریہ ہائے حیات کی باہمی کشمکش سے کسی دشمن کی بیوی کا کوئی ایسا خاص تعلق ہو کہ اسے خاص طور پر مطعون کیا جائے۔
انہی سوچوں کے درمیان قرآن کے جدید قرین عقل تراجم کا سلسلہ شروع کیا تو یہ سورت بھی سامنے آئی اور اس کے بھی جدید ترجمےکا تقاضہ کیا گیا۔ پس سیاق و سباق پر اور قرآن کے مجموعی سیاسی/معاشرتی تناظر پرغور کرنے سے منشائے خداوندی کافی حد تک روشنی میں آ گیا۔ اس سورت سے ما قبل میں رسولِ کریم کی کامیابیوں اور ایک بڑی فتح کا ذکر ہے جو فتحِ مکہ کی جانب اشارہ دیتی ہے ۔ مثلا دیکھیں سورۃ الکوثر اور سورۃ النصر۔پس امکانِ غالب یہی پایا گیا کہ فتحِ مکہ [سورۃ النصر] کے حوالے سے, ، اس فوری بعد آنے والی سورت میں، اسلام کے سب سے بڑے دشمن کی شکست کا استعارے کے اسلوب میں اس کا نام لیے بغیر ذکر کیا گیا ہے۔اور اُس ہی کے آخرت کے انجام کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ کیونکہ بیوی کا ذکر یہاں کسی عقل و منطق پر پورا نہیں اُترتا، اس لیے یہ بھی اُس دشمن کی قوم کا ذکر ہی باور کیا جا سکتا ہے اور "امراۃ" بھی یہاں بیوی نہیں بلکہ ماتحت قوم کا استعارہ ہے۔
پس اس تحقیق کے نتیجے میں پیشِ خدمت ہے جدید ترین قرینِ عقل ترجمہ ۔
Comments
Post a Comment