قرآن سورہ 75 القیامہ سائنٹفک یعنی علمی ترجمہ اردو میں ڈسکرپشن میں
القیامۃ [75]
پیش لفظ
اس سورۃ کا موضوع انسانوں کا وہ طبقہ ہے جو موعودہ حیات آخرت کی آمد کا انکار کرتا ہے اور اُس آنے والے احتساب کے دورکا بھی جس سے ہرانسانی نفس نے گذرنا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں یہ وہ لوگ ہیں جو ہر فوری مادی فائدے پر جھپٹنے کا رویہ برقرار رکھتے ہیں، لیکن امن، انصاف، خدا ترسی، مہربانی اور مساوات کی انسانی اقدار کے بارے میں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو حجت کا نشانہ بناتے ہیں کہ خالق کی ذاتِ عالی انہیں موت کے بعد اُس وقت ایک نئی زندگی بآسانی عطا کر سکتی ہے جب کہ وہ مُدّتِ مدید کے بعد بکھری ہوئی ہڈیوں کی شکل اختیار کر چکے ہوں گے۔ انہیں پیش آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ایک دردناک اور دائمی عذاب ان کا منتظر ہے۔ یہ سورت مختصر لیکن انتہائی جامع با محاورہ ادبی ذخیرہِ الفاظ پر مشتمل ہے۔ اس کی اردو زبان میں تحویل کے عمل کے ساتھ انصاف کرنے اور اس کی مروجہ تعبیرات و تراجم میں موجود کرپشن اور بگاڑ کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک بڑی کاوش درکار تھی۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف الفاظ بلکہ بہت سے مکمل جملے اساسی طور پر تبدیلی کا ہدف بنانے پڑے تاکہ وہ قرآن کی سچی روشنی کی عکاسی کر سکیں۔ محترم قارئین بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ اہداف کہاں تک حاصل کر لیے گئے ہیں۔
سورۃ القیامۃ [75]
لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ﴿١﴾ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ﴿٢﴾أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ﴿٣﴾ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ﴿٤﴾ بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ﴿٥﴾ يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ﴿٦﴾ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ﴿٧﴾ وَخَسَفَ الْقَمَرُ ﴿٨﴾وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ﴿٩﴾ يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ﴿١٠﴾ كَلَّا لَا وَزَرَ ﴿١١﴾ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ﴿١٢﴾ يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ﴿١٣﴾ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ﴿١٤﴾ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ ﴿١٥﴾ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ﴿١٦﴾ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ﴿١٧﴾ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴿١٨﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ﴿١٩﴾ کلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ﴿٢٠﴾ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ ﴿٢١﴾ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ﴿٢٢﴾ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴿٢٣﴾ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ﴿٢٤﴾ تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ﴿٢٥﴾ كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ﴿٢٦﴾ وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ ﴿٢٧﴾ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ﴿٢٨﴾ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ﴿٢٩﴾ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ ﴿٣٠﴾ فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ﴿٣١﴾ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿٣٢﴾ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ ﴿٣٣﴾ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٤﴾ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٥﴾أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ﴿٣٦﴾ أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ﴿٣٧﴾ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ﴿٣٨﴾ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ ﴿٣٩﴾ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ﴿٤٠﴾
مروجہ روایتی تراجم کا ایک نمونہ
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟۔ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں۔ مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن؟" پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے۔ اور چاند بے نور ہو جائیگا۔ اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے۔ اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟"۔ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ اُس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا۔ اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا۔ بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔ اے نبیؐ، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔ اِس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں اُس وقت تم اِس کی قرات کو غور سے سنتے رہو۔ پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو۔ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ اور کچھ چہرے اداس ہوں گے۔ اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے۔ ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی۔ وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا۔ مگر اُس نے نہ سچ مانا، اور نہ نماز پڑھی۔ بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا۔ پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا۔ یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔ ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے۔ پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کر دے؟
جدید ترین علمی و عقلی ترجمہ
"میں انسان کے دوبارہ اُٹھائے جانے والے دور[یوم القیامۃ] کو بطور گواہی پیش نہیں کرتا [لا اُقسِمُ]؛ اور نہ ہی میں انسان کے نفسِ شعوری [نفس اللوّامہ] کو گواہ بناتا ہوں جو اسے ملامت کرتا رہتا ہے؛ لیکن پھر بھی میں پوچھتا ہوں کہ وہ کس بنیاد پر یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اُس کے ہڈیوں کے ڈھانچے کو اکٹھا کر کے اسے دوبارہ زندگی نہیں دے سکتے؟ انسان پر یہ واضح کر دیا جاتا ہے [بلیٰ] کہ ہم یہ قدرت رکھتے ہیں کہ اس کی صورتِ زندگی کو[بنانہ] یا اعضائے جسمانی کو کسی بھی مطلوبہ حالت کے مطابق موزوں صورت میں لے آئیں [نسوّی]۔ تاہم، انسان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ بھی اس کے سامنے پیش کیا جائے[امامہ] اس کا تجزیہ و تحقیق [یفجُر] کی جائے۔ اس لیے وہ سوال کرتا رہتا ہے کہ حیاتِ نو کا مرحلہ آخرکب وقوع پذیر ہوگا۔ لیکن جب ایسا وقت واقعی آپہنچا کہ اُس کی تمام بصیرت اُلجھ کر رہ جائے، اور اس کی تمام خیال آرائیاں [القمر – speculation ] بے کار ہو جائیں اور جب واضح اور روشن حقیقت [الشمس] اور خیال آرائیوں [القمر]کے درمیان تقابل اور ہم آہنگی پیدا کر دی جائے [جُمِع]، تو اُس مرحلے میں انسان پریشان ہو کر کہے گا کہ کیا اب میرے لیے کہیں کوئی جائے پناہ ہے [المفرّ]؟ لیکن کوئی موقع نہ ہوگا [کلّا] کہ کوئی مدد میسر ہو[لا وزر]۔ اُس مرحلے میں [یومئذ] تمہارے پروردگار کے پاس ہی مستقل ٹھکانہ [المستقر] ہوگا۔ اور وہ انسان کو مطلع فرمائے گا کہ اس کی ترجیحات کیا تھیں اور وہ کہاں یعنی کس کس معاملے میں پیچھے رہ گیا تھا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں ہمیشہ پوری جانکاری رکھتا ہے، خواہ وہ اس معاملے میں کتنے ہی عذر پیش کرتا رہے [القیٰ معاذیرہ]۔ اے نبی تم اُس پر اس معاملے میں عجلت کرنے کے لیے [لتعجل بہ] اپنی زبان کو حرکت مت دو[لا تحرّک بلسانک] یعنی زیادہ زبانی دباو مت ڈالو۔ اسے اکٹھا کرنا اورتاکید کے ساتھ سامنے لے آنا [قرآنہ] ہماری زمہ داری ہے۔ پس جب ہم اُسے کھینچ کر سامنے لے آئیں [قرآناہ] تو تم اُس کے مطالعے اور تحقیق و تفتیش [قرآنہ] کے عمل میں اس کی مدد و اعانت کرو[فاتّبع]۔ بعد ازاں اُس کا بیان [بیانہ]یعنی اُس کی جانب سے دلیل و حجت ہمارا مسئلہ ہے۔
لیکن نہیں، حقیقت میں تم سب لوگ موجودہ زندگی کے مفادِ عاجلہ سے ہی محبت کرتے ہواور دورِ آخرت کو نظر انداز کرتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ مرحلہ آ جائے گا تو کچھ چہرے روشن ہوں گے اور اپنے رب کی جانب امید بھری نظرسے دیکھتے ہوں گے؛ اور کچھ چہرے اُس وقت بگڑے ہوئے ہوں گے، اس احساس میں کہ ان پر قہر [فاقرۃ] نازل ہونے والا ہے۔ ایسا نہیں، بلکہ جب وہ عذاب ان کی گردنوں تک [التّراقی] آ پہنچے گا [بلغت] تو کہا جائے گا کہ تم میں سے کون ہے جو اس سےاوپر اُٹھ کر[راق] خود کو بچا لے؟ لیکن وہ سمجھ لے گا کہ اس کا علیحدہ ہوجانے [الفراق] کا وقت آ پہنچا ہے اور پھر یکے بعد دیگرے باہم مربوط [التفّت] مشکلات کے ایک سلسلے [ساق بالساق] کا سامنا ہوگا۔ اُس مرحلے میں [یومئذ] سب تمہارے پروردگار کے قانونِ مکافات کی جانب دھکیل دیے جائیں گے [المساق]۔ بہرحال یہ وہ ہوں گے جو نہ سچ کو مانتے تھے نہ ہی اس کی پیروی کرتے تھے {صلّیٰ}، بلکہ اُسے جھٹلاتے تھے اور منہ موڑ کر دور چلے جاتے تھے۔ بعد ازاں اکڑتے ہوئے [یتمطّیٰ] اپنے ہی جیسے لوگوں کی جانب چلے جاتے تھے۔ پس تم لوگوں کے لیے پے درپے آفت کا نزول ہے [اولیٰ لک فاولیٰ]۔ اُس کے بعد پھر پے درپے آفت کا نزول ہے۔ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اُسے ہمیشہ اس کی مرضی پرچلنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا وہ ایک بے حیثیت پانی کا قطرہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا؟ پھر کیا وہ ایک لوتھڑا نہیں تھا؟ پھراُس نے اسے پیمائش اور تناسب دیا [فخلق]، پھر اُس نےاسے ایک اچھی شکل میں تشکیل دیا [فسوّیٰ] ؛ اور پھر اُس ہی میں سے مذکر اور مونث کی اصناف بنا دیں؟ کیا ایسی ہستی اس پر قادر نہیں ہے کہ مُردوں کو زندگی عطا کر دے۔"
نوٹ:
اہم الفاظ کے مستند معانی نیچے ملاحظہ فرمائیں۔
Authentic meanings of important words:
Qasama: Uqsimu: اُقسمُ : : To divide into parts; to portion out; a partition; a dividing; an apportionment, to take oath: to swear unto; to swear with: لا اُقسمُ : I will not swear; (the matter being too palpable to require the confirmation of an oath); I do not present as witness or confirmation; میں دلیل یا شہادت کے طور پر پیش نہیں کرتا۔
Lawwama: l w m: لوام؛ لومۃ: Severe censurer, stern critic, censorious; rebuke, reproof, blame, reproach.
ب ن ا ن : Ba-Nun-Nun = the extremities or ends (fingers/toes), limbs, members of the body (arms, hands, legs etc).
ب ر ق = Ba-Ra-Qaf =Shining, gleaming or glistening (e.g. the dawn, a sword)
Lightning; Threatening or menacing; A female beautifying and adorning herself or showing and presenting herself and/or exhibiting her beauty; A star rising or a constellation (e.g. Pleiades); Eyes/sight glistening, fixedly open (e.g. by reason of fright), sights confused, astonished, stupefied or dazzled, sight becoming weak, opening eyes and looking hard, intently or sharply.
Kh-Siin-Fa : خسف= To sink or go away into the ground or earth (place or person), become depressed (such as the eye becoming depressed in the head), to lose sight/become blind, to lose light (like the sun or moon during an eclipse), become defective or deficient, become lean or emaciated, to recover (such as from disease or illness), to put out one's eye, make a hole in a thing, to abase or humble or make lowly, to disgrace, to be vile.
= Lam-Fa-Fa: ل ف ف : التفّت: = To roll up, fold, wrap, involve, conjoin, be entangled (trees), be heaped, joined thick/dense and luxuriant/abundant.
Siin-Waw-Qaf : س و ق ؛ ساق= to drive/impel/urge. yusaquna - they are driven or led. saiqun - driver. suq (pl. aswaq) - market, stem, leg, kashafat an saqaiha (27:44) is a well known Arabic idiom meaning to become prepared to meet the difficulty or to become perturbed/perplexed or taken aback, the literal meaning is "she uncovered and bared her shanks". yukshafu an saqin (68:42) means ther eis severe affliction and the truth laid here, it is indicative of a grievous and terrible calamity and difficulty. masaq - the act of driving.
ق ر ا = Qaf-Ra-Alif: قرآن = to recite/read, compilation, collection, reading, recitation, explanation, study, investigation. Explore, investigate, examine, reckon with, take into account, pursue, to cast forth, to bring forth, to draw forth.
Comments
Post a Comment